پٹنہ،16/جنوری (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے پیر کو تسلیم کیا ہے کہ انتظامات میں کوتاہیوں کی وجہ سے کشتی حادثہ ہواہے۔ہر پیر کو جنتادربار کے بعد پریس کانفرنس میں نتیش نے صاف طورپر تسلیم کیا کہ کسی بھی انعقاد میں اگر تین غلطیاں ہوں گی تو حادثہ کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔حالانکہ نتیش کمار نے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے دو رکنی جانچ ٹیم اب اس پورے حادثے اور انعقاد سے منسلک ہر پہلو کی تحقیقات کر کے جلد رپورٹ دے گی، ساتھ ہی نتیش نے تسلیم کیا کہ اس کشتی حادثہ کی وجہ سے پرکاش پرو اور کال چکر پوجا کے انعقاد کے بعد ریاستی حکومت کی ہر جگہ ہو رہی تعریف پر آنچ آئی ہے، لیکن نتیش نے اتوار کو دو گھنٹے کے پورے انعقاد کا جائزہ لیا تھا اور ذرائع کی مانیں، توانہوں نے خود انعقاد سے متعلق کئی خامیوں کو اجاگر کیاتھا۔اس میں ایک بات نمایاں آئی کہ چھپرہ کے ضلع مجسٹریٹ اور پولیس سپرنٹنڈنٹ نے انعقاد سے پہلے یا مکر سنکرانتی کے دن پتنگ اتسو کی جگہ پر ایک بار بھی جانے کی ضرورت محسوس نہیں کی، حالانکہ کشتی حادثے کے بعد نتیش کمار نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی بڑا انعقاد چاہے کسی بھی محکمہ کا ہو، ریاست کے چیف سکریٹری کی اجازت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔کشتی حادثے کے بعد اپوزیشن پارٹیوں کی تنقید پر نتیش کمار نے کہا کہ واقعہ کے دو گھنٹے کے بعد انہیں اطلاع ملی،لیکن اس کے بعد پورے واقعہ کی مانیٹرنگ انہوں نے خود کی۔ماضی میں ایسے واقعات کی تحقیقات کے بعد ملزم حکام کو کلین چٹ دئیے جانے کی روایت پر نتیش نے کہا کہ انہیں اس کی معلومات نہیں ہے لیکن تحقیقات میں نہ کسی کو پھنسایا جاتا ہے اور نہ بچایا جاتا ہے۔بہار بی جے پی کے سینئر لیڈر سشیل مودی کے 21/جنوری کو منعقد ہونے والی انسانی زنجیر کو ملتوی کرنے کے مطالبہ کو نتیش نے یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ کشتی حادثے کے بعد جہاں انہوں نے اپنی پارٹی کے اور سارے سرکاری پروگرام کو منسوخ کردیاتھا، وہیں بی جے پی کے لیڈر بھول جاتے ہیں کہ اتر پردیش میں ریل حادثہ ہونے کے باوجود جہاں میں نے اپنا رپورٹ کارڈ جاری کرنے کے پروگرام کو روک دیا تھا، وہیں وزیر اعظم نریندر مودی نے پارٹی کے اجلاس کو اسی دن اس ریاست میں خطاب کیاتھا، لیکن انسانی زنجیر جس میں دو کروڑ سے زیادہ لوگوں کے حصہ لینے کا امکان ہے، اس میں حصہ لینے کے لیے سب سے اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جوپارٹی اس میں شامل ہوں گی، وہ ان کا شکریہ ادا کریں گے اور جو نہیں آئیں گی اس پر وہ کوئی تنقید نہیں کریں گے۔